Mirza Ghalib Shayari & Poetry in Urdu 2 Lines

Total
1
Shares
Mirza Ghalib Shayari

UrduPoetries.net is Premium Source of Urdu Poetry & Quotes. It’s in this post that you find Mirza Ghalib Poetry in Urdu to express your heart voice in front of your Loved Ones who love to read or hear standard poetry. It’s a good thing that you can read and easily copy the text of the Mirza Ghalib Shayari for free. With a One click, you can share it with your friends and family members, too!

یہ پلیٹ فارم اردو شاعری اور اقوال زریں کا بہترین ذریعہ ہے۔ اس پوسٹ میں آپ کو مرزا غالب کی شاعری اردو ملتی ہے ان لوگوں کے لیے جو اپنے پیاروں کے سامنے اپنے دل کی آواز کا اظہار کرنے کے لیے جو معیاری شاعری پڑھنا یا سننا پسند کرتے ہیں۔ یہ اچھی بات ہے کہ آپ مرزا غالب کی شاعری کو مفت میں پڑھ اور آسانی سے کاپی کر سکتے ہیں۔ ایک کلک کے ساتھ، آپ اسے اپنے دوستوں اور خاندان کے لوگوں کے ساتھ بھی شیئر کر سکتے ہیں!

Scroll Down for Reading Mirza Ghalib Shayari

کیا فرض ہے کہ سب کو ملے ایک ما حواب
آو نہ ہم بھی سیر کریں کوہ طور کی
(غالب)


پر ہوں میں شکوے سے یوں راگ سے جیسے باجا
اک ذرا چھیڑیے پھر دیکھیے کیا ہوتا ہے
(غالب)


استاد شہ سے ہو مجھے پر خاش کا خیال
یہ تاب، یہ مجال، یہ طاقت نہیں مجھے
(غالب)


مقتل کو کس نشاط سے جاتا ہوں میں کہ ہے
پر گل خیال زخم سے دامن نگاہ کا
(غالب)


چشم خوباں خامشی میں بھی نوا پرداز ہے
سرمہ تو کہوے کہ دور شعلہ آواز ہے
(غالب)


کہہ سکے کون کہ یہ جلوہ گری کس کی ہے
پردہ چھوڑا ہے وہ اس نے کہ اٹھائے نہ بنے
(غالب)


شرم رسوائی سے جا چھینا نقاب خاک میں
ختم ہے الفت کی تجھ پر پردہ داری ہائے ہائے
(غالب)


صاحب شاخ و برگ بار ہے آم
ناز پروردہ بہار ہے آم
(غالب)


غم آغوش بلا میں پرورش دیتا ہے عاشق کو
چراغ روشن اپنا قلزم صر صر کا مرجاں ہے
(غالب)


Best Mirza Ghalib Poetry in Urdu

ناؤ بھر کر ہی پروئے گئے ہوں گے موتی
ورنہ کیوں لائے ہیں کشتی میں لگا کر سہرا
(غالب)


یہ پری چہرہ لوگ کیسے ہیں
غمزہ و عشوہ و ادا کیا ہے
(غالب)


ان پری زادوں سے لیں گے خلد میں ہم انتقام
قدرت حق سے یہی حوریں اگر واں ہو گئیں
(غالب)


ہے پرے سرحد ادراک سے اپنا مسجود
قبلے کو اہل نظر قبلہ نما کہتے ہیں
(غالب)


بوے گل، نالہ دل، دور چراغ محفل
جو تری بزم سے نکلا سو پریشاں نکلا
(غالب)


کس سے ممکن ہے تری مدح بغیر از واجب
شعلہ شمع مگر شمع پہ باندھے آئیں
(غالب)


ہم زانوے تامل وہم جلوہ گاہ گل
آئینہ بند خلوت و محفل ہے آئینہ
(غالب)


تماشا کر اے محو آئینہ داری
تجھے کس تمنا سے ہم دیکھتے ہیں
(غالب)


آئینہ دیکھ اپنا سا منھ لے کے رہ گئے
صاحب کو دل نہ دینے پہ کتنا غرور تھا
(غالب)


ایسا کہاں سے لاؤں کہ تجھ سا کہیں جسے
آئینہ کیوں نہ دوں کہ تماشا کہیں جسے
(غالب)


Best Mirza Ghalib Shayari in Urdu

سلطنت دست بدست آئی ہے
جام جم خاتم جمشید نہیں
(غالب)


بہت دنوں میں تغافل نے تیرے پیداکی
وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے
(غالب)


ہر چند ہو مساہدہ حق کی گفتگو
بنتی نہیں ہے بادہ و ساغر کہے بغیر
(غالب)


سادگی و پرکاری بیخودی و ہشیاری
حسن کو تغافل میں جرأت آزما پایا
(غالب)


غالب خستہ کے بگیر کون سے کام بند ہیں
روئیے زار زار کیا کیجیے ہاے ہائے کیوں
(غالب)


غالب اپنا یہ عقیدہ ہے بقول ناسخ
آپ بے بہرہ ہے جو معنقد میر نہھیں
(غالب)


باہمد گر ہوے ہیں دل ودیدہ پھر رقیب
نظارہ وخیال کا ساماں کیسے ہووے
(غالب)


دھمکی میں مرگیا جو نہ باب نبرد تھا
عشق نبرد ہمیشہ ، طلب گار مرد تھا
(غالب)


صد کی ہے اور بات مگر کوبری نہیں
بھولے سے اس نے سیکڑوں وعدے وفا کیے
( غالب)


مقطع میں آپڑی ہے سخن گسترانہ بات
مقصود اس سے قطع محبت نہیں مجھے
(غالب)

Ahmed Faraz Poetry
1 comment
Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *